کلکتہ،4؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) مغربی بنگال میںمئی 2021 کو اسمبلی انتخابات ہونے ہیں لیکن آنے والے انتخابات کو لے کر ابھی سے بی جے پی نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ بی جے پی لیڈران لگاتار ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس دوران وہ بدکلامی و بدتہذیبی سے بھی گریز نہیں کر رہےہیں۔
مغربی بنگال کے بی جے پی صدر دلیپ گھوش کئی بار ممتا بنرجی کے لیے قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کر چکے ہیں۔تازہ بیان میں انہوں نے ممتا بنرجی کے ذریعہ ’جے شری رام‘ نہ کہنے پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’’کیا جے شری رام بولنے سے ممتا دیدی کو بہت دقت ہوتی ہے؟‘‘
دلیپ گھوش نے یہ سوال ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ آخر ان کے (ممتا بنرجی کے) خون میں ایسا کیا ہے کہ وہ جے شری رام نہیں بول سکتی ہیں۔ رام کے ملک میں ہی ایسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے۔ دلیپ گھوش نے مزید کہا کہ ’’ممتا بنرجی کہہ رہی ہیں کہ بدلا نہیں، بدل دو، لیکن میں کہنا چاہتا ہوں کہ جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو ہمارے کارکنوں کی موت کا بدلہ لیں گے۔‘‘
واضح رہے کہ بی جے پی نے مغربی بنگال میں 200 سیٹیں حاصل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ مغربی بنگال اسمبلی میں کل 294 سیٹیں ہیں اور بی جے پی کو گزشتہ انتخاب میں محض 17 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔ ترنمول کانگریس نے سب سے زیادہ 221 سیٹیں حاصل کر بہ آسانی اقتدار پر قابض ہوئی تھی۔ اکثریت حاصل کرنے کے لیے ریاست میں 148 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔